مہر خبررساں ایجنسی نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ کیتھولک چرچ کے مالی امور کے سربراہ اور پوپ فرانسس کے اعلیٰ ترین معاون کارڈِنل جارج پیل کو جنسی ہراساں کرنے کے الزام میں ٹرائل کا امکان ہے۔ اطلاعات کے مطابق 76 سالہ کارڈِ نل جارج پیل کو آسٹریلیا کے شہر میلبرن کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان کے خلاف جنسی ہراساں کرنے کے الزامات سے متعلق سماعت ہوئی۔ میلبرن عدالت کے جج نے ہدایت جاری کی کہ ویٹی کن میں مالی امور کے چیف کو جنسی ہراساں کرنے کے مختلف الزامات میں ٹرائل کا سامنا کرنا ہوگا، جس کے بعد وہ ان الزمات کا سامنا کرنے والے اعلیٰ ترین رومن کیتھولک پیشوا بن گئے۔ رومن کیتھولک پر لگائے گئے الزامات کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں تاہم یہ بتایا گیا ہے کہ مذہبی پیشوا پر لگائے گئے الزامات 1970 کی دہائی سے 1990 کی دہائی کے درمیان ہونے والے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات سے متعلق ہیں۔
تاہم یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان پر لگائے گئے الزامات میں سے ایک الزام 1970 کی دہائی میں آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ کے ایک قصبے کے سوئمنگ پول میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق ہے، اور یہ وہ دور تھا جب کارڈِنل جارج پیل وہاں مذہبی پیشوا تھے۔ واضح رہے کہ مذہبی پیشوا اس وقت ضمانت پر ہیں جو ویٹی کن سے چھٹیاں لے کر اپنے خلاف عائد الزامات میں ٹرائل کا سامنا کرنے کے لیے آسٹریلیا آئے ہیں جبکہ ان کا پاسپورٹ بھی ضبط کرلیا گیا ہے۔
آپ کا تبصرہ